Friday, 14 May 2021

بزم تنہائی میں عکس شعلہ پیکر تھا کوئی

 بزم تنہائی میں عکس شعلہ پیکر تھا کوئی

یا ہمارے سامنے یادوں کا لشکر تھا کوئی

قربتوں کے گھاٹ پر سوکھی ندی ثابت ہوا

فاصلوں کے دشت میں گہرا سمندر تھا کوئی

اس کی ساری التجائیں حکم ٹھہرائی گئیں

جس گھڑی دیکھا گیا جامے سے باہر تھا کوئی

دیوتا ہے اب وہی مندر کے آسن پر جما

ٹھوکریں کھاتا ہوا رستے کا پتھر تھا کوئی

اس کی خواہش تھی کہ سطح آب پر چل کر دکھائے

کیا مقدر تھا کہ دریا کا مقدر تھا کوئی

کرب اپنے بونے‌ پن کا جھیلتا ہوں آج تک

سوچ ابھری تھی بجھی میرے برابر تھا کوئی

سامنے اس کے اگر سورج نہیں تھا احترامؔ

پانی پانی آخرش کیوں شعلہ پیکر تھا کوئی


احترام اسلام

No comments:

Post a Comment