ہونٹوں پہ میرے پیاس کی اب تشنگی نہیں
بے بس ہُوا ہوں اتنا کہ اب بے بسی نہیں
خُوشیوں کو پائمال کیا اس قدر مِری
جھولی میں ایک نام کی بھی اب خُوشی نہیں
یا زندگی کے ساتھ چلا جائے ہر طرح
یا موت ہو قبول اگر زندگی نہیں
ہاتھوں میں تیرا ہاتھ ہو دل کے نشان پر
کیا تیرے اس جہان میں ایسی گھڑی نہیں
رہتا ہے ایک سا ہی رویہ سبھی کے ساتھ
تُو جانِ ماہتاب ہے، تُو ہر کسی نہیں
ماہتاب دستی
No comments:
Post a Comment