Tuesday, 19 April 2022

تعلقات میں یہ ایک سانِحہ بھی ہے

 تعلقات میں یہ ایک سانِحہ بھی ہے​

محبتیں بھی ہیں اور درمیاں اَنا بھی ہے​

یہ ٹھیک، تجھ کو شکایت بھی ہے، گلہ بھی ہے​

تو یہ بتا کہ تجھے میں نے کچھ کہا بھی ہے​

کوئی بھی پُل ہو، وہ دو ساحلوں پہ بنتا ہے​

گر ایک دل ہے تِرا، ایک دل مِرا بھی ہے

​یہ تیری بات ہے، آیت نہیں، حدیث نہیں​

کوئی تِرا تو کوئی میرا فیصلہ بھی ہے​

پیالہ بھر تو لیا ہے جدائی کا تُو نے​

مجھے بتا کہ کبھی زہر یہ پیا بھی ہے

تعلقات کو اتنا رکھا ہے، جتنے ہیں​

قریب بھی ہے، مناسب سا فاصلہ بھی ہے​

ہوس کو چھانے دیا کم عدیم چاہت پر​

کبھی کبھی یہ مگر واقعہ ہوا بھی ہے​


عدیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment