تعلقات میں یہ ایک سانِحہ بھی ہے
محبتیں بھی ہیں اور درمیاں اَنا بھی ہے
یہ ٹھیک، تجھ کو شکایت بھی ہے، گلہ بھی ہے
تو یہ بتا کہ تجھے میں نے کچھ کہا بھی ہے
کوئی بھی پُل ہو، وہ دو ساحلوں پہ بنتا ہے
گر ایک دل ہے تِرا، ایک دل مِرا بھی ہے
یہ تیری بات ہے، آیت نہیں، حدیث نہیں
کوئی تِرا تو کوئی میرا فیصلہ بھی ہے
پیالہ بھر تو لیا ہے جدائی کا تُو نے
مجھے بتا کہ کبھی زہر یہ پیا بھی ہے
تعلقات کو اتنا رکھا ہے، جتنے ہیں
قریب بھی ہے، مناسب سا فاصلہ بھی ہے
ہوس کو چھانے دیا کم عدیم چاہت پر
کبھی کبھی یہ مگر واقعہ ہوا بھی ہے
عدیم ہاشمی
No comments:
Post a Comment