Tuesday, 13 December 2016

جہاں بھر میں ہمارے عشق کی تشہیر ہو جائے

جہاں بھر میں ہمارے عشق کی تشہیر ہو جائے
اسے کس نے کہا تھا دل پہ یوں تحریر ہو جائے
میں سچا ہوں تو پھر آئے مِری تقدیر ہو جائے 
میں جھوٹا ہوں تو میرے جرم کی تعزیر ہو جائے 
میں اپنے خواب سے کہتا ہوں آنکھوں سے نکل آئے 
ذرا آگے بڑھے اور خواب سے تعبیر ہو جائے 
زباں ایسی کہ ہر اک لفظ مرہم سا لگے اس کا
نظر ایسی کہ اٹھتے ہی دلوں میں تِیر ہو جائے 
وہ ہر پَل جس میں اپنے پیار کی یادیں دھڑکتی ہیں
مِری جاگیر ہو جائے، تجھے زنجیر ہو جائے 
سبب کچھ تو رہا ہو گا ترے حیدؔر کی حالت کا
کبھی جو بے سبب ہنس دے، کبھی دلگیر ہو جائے 

حیدر قریشی

No comments:

Post a Comment