Tuesday, 13 December 2016

دشت میں ہے ایک نقش رہگزر سب سے الگ

دشت میں ہے ایک نقشِ رہگزر سب سے الگ
ہم میں ہے شاید کوئی محوِ سفر سب سے الگ
شہرِ کثرت میں عجب اک روزنِ خلوت کھلا
اس نے جو دیکھا مجھے اک لمحہ بھر سب سے الگ
ان گنت جلووں سے ہیں کون و مکاں روشن مگر
دل کے خاکستر سے اڑتا ہے شرر سب سے الگ
سب کی اپنی منزلیں تھیں سب کے اپنے راستے
ایک آوارہ پھرے ہم، در بدر سب سے الگ
چلتے چلتے وہ بھی آخر بھیڑ میں گُم ہو گیا
وہ جو ہر صورت میں آتا تھا نظر سب سے الگ
بند ہیں گلیوں میں گلیاں، ہیں گھروں سے گھر جدا
ہے کوئی اس شہر میں شہرِ دگر سب سے الگ
ہے رہ و رسمِ زمانہ پردۂ بے گانگی
درمیاں رہتا ہوں میں سب کے مگر سب سے الگ

سرمد صہبائی

No comments:

Post a Comment