Tuesday, 13 December 2016

بھولی بسری ایک کہانی رہ جاتی ہے

بھولی بِسری ایک کہانی رہ جاتی ہے
کہاں لڑکپن کہاں جوانی رہ جاتی ہے
دن چڑھتے ہی سارے قصے دھل جاتے ہیں 
کہیں کہیں اک بات پرانی رہ جاتی ہے
ساری دنیا کو تو اپنا کر لیتے ہیں 
اپنی ذات بے گانی رہ جاتی ہے
دن کو تو کاروبار جہاں میں کٹ جاتا ہے 
ساتھ اکیلے رات نبھانی رہ جاتی ہے
ایک ہی پل میں سارا منظر کھو جاتا ہے 
باقی عمروں کی حیرانی رہ جاتی ہے
جب جینے کی ساری مشکل ٹل جاتی ہے
مر جانے کی اک آسانی رہ جاتی ہے
اکثر انجانے لوگوں کے ساتھ سفر میں 
شکل کوئی جانی پہچانی رہ جاتی ہے
کب آتی ہے دل کی بات زباں پر سرمدؔ 
تیری میری شوخ بیانی رہ جاتی ہے

سرمد صہبائی

No comments:

Post a Comment