Tuesday, 13 December 2016

ستم کے پردے میں پھر کرم کر سکون کو اضطراب کر دے

 ستم کے پردے میں پھر کرم کر سکون کو اضطراب کر دے 

دل فسردہ کو زندگی دے،۔ شباب کو پھر شباب کر دے 

یہ مانا لاکھوں حکایتیں ہیں، ہزاروں دل میں شکایتیں ہیں 

مگر کہیں کیا جو اک نظر میں، کوئی ہمیں لا جواب کر دے 

ٹھہر دل بے قرار دم بھر، وہ آئے ہیں بے حجاب ہو کر 

سنبھل کہ یہ اضطراب نو ہی، کہیں نہ حائل نقاب کر دے 

وہ عالم بیخودی ہو دل پر، وہ کیفیت بے حسی کی چھائے 

جو آرزوئے کرم مٹا دے، جو بے نیاز عتاب کر دے 

نہ آئے گا لب پہ حرف مطلب، نہ کھل سکے گی زبان کیفی

نگاہ حسرت کو ترجماں کر، خموشیوں کو جواب کر دے 


کیفی مہکاری

عبدالرشید خان

No comments:

Post a Comment