Tuesday, 13 December 2016

زمانہ منقلب ہے انقلاب آیا ہی کرتے ہیں​

زمانہ منقلب ہے انقلاب آیا ہی کرتے ہیں​
اندھیرے رات میں کچھ دیر کو چھایا ہی کرتے ہیں​
مہ و خورشید کو بھی لگ ہی جاتا ہے گہن اک دن​
پھر اس کے بعد پیہم نور برسایا ہی کرتے ہیں​
خزاں کے بعد دورِ فصلِ گل آتا ہے گلشن میں​
چمن والو! خزاں میں پھول مرجھایا ہی کرتے ہیں​
جنھیں عزمِ جواں ملتا ہے راہِ زندگانی میں​
مصائب، راہِ منزل ان کو دکھلایا ہی کرتے ہیں​
سکھا دیتی ہے قدرت جن کو اندازِ جہانبانی​
وہ ہر الجھی ہوئی گتھی کو سلجھایا ہی کرتے ہیں​
لگن ہو جن کے دل میں وہ پہنچ جاتے ہیں منزل تک​
حوادث راستے میں دام پھیلایا ہی کرتے ہیں​
جو چلتے ہیں انہیں کو راہ میں ٹھوکر بھی لگتی ہے​
یہ ٹھوکر کھا کے خوش قسمت سنبھل جایا ہی کرتے ہیں​
جواں ہمت سبق لیتے ہیں دنیا میں حوادث سے​
زبوں ہمت جو ہوتے ہیں وہ پچھتایا ہی کرتے ہیں​
یہ دنیا عیش و غم کی دھوپ چھاؤں سے عبارت ہے​
خوشی ہو یا الم دونوں گزر جایا ہی کرتے ہیں​
وہی ہیں مرد جن پر یاس کے سائے نہیں پڑتے​
وہ بڑھ کر تند طوفانوں سے ٹکرایا ہی کرتے ہیں​

زکی کیفی
ذکی کیفی

No comments:

Post a Comment