زمانہ منقلب ہے انقلاب آیا ہی کرتے ہیں
اندھیرے رات میں کچھ دیر کو چھایا ہی کرتے ہیں
مہ و خورشید کو بھی لگ ہی جاتا ہے گہن اک دن
پھر اس کے بعد پیہم نور برسایا ہی کرتے ہیں
خزاں کے بعد دورِ فصلِ گل آتا ہے گلشن میں
جنھیں عزمِ جواں ملتا ہے راہِ زندگانی میں
مصائب، راہِ منزل ان کو دکھلایا ہی کرتے ہیں
سکھا دیتی ہے قدرت جن کو اندازِ جہانبانی
وہ ہر الجھی ہوئی گتھی کو سلجھایا ہی کرتے ہیں
لگن ہو جن کے دل میں وہ پہنچ جاتے ہیں منزل تک
حوادث راستے میں دام پھیلایا ہی کرتے ہیں
جو چلتے ہیں انہیں کو راہ میں ٹھوکر بھی لگتی ہے
یہ ٹھوکر کھا کے خوش قسمت سنبھل جایا ہی کرتے ہیں
جواں ہمت سبق لیتے ہیں دنیا میں حوادث سے
زبوں ہمت جو ہوتے ہیں وہ پچھتایا ہی کرتے ہیں
یہ دنیا عیش و غم کی دھوپ چھاؤں سے عبارت ہے
خوشی ہو یا الم دونوں گزر جایا ہی کرتے ہیں
وہی ہیں مرد جن پر یاس کے سائے نہیں پڑتے
وہ بڑھ کر تند طوفانوں سے ٹکرایا ہی کرتے ہیں
زکی کیفی
ذکی کیفی
No comments:
Post a Comment