Tuesday, 13 December 2016

فکر چمن ہو قید قفس میں ظرف کہاں یہ اہل ہوس میں

فکرِ چمن ہو قیدِ قفس میں
ظرف کہاں یہ اہلِ ہوس میں
اہلِ محبت طے کرتے ہیں
کتنی منازل ایک نفس میں
فکرِ نشیمن کرنے والو 
برق نہاں ہے خار میں خس میں
ٹوٹے دلوں کی کتنی صدائیں
ڈوب گئیں آوازِ جرس میں
رات یہاں پر دن کہلائے
جیسی دنیا ویسی رسمیں
کس کو بتائیں، کیسے گزرا
اک اک لمحہ کتنے برس میں
ان کی زباں سے سچ لگتے ہیں
جھوٹے وعدے، جھوٹی قسمیں
جب بھی لیا ہے نام کسی کا
ڈوب گئے لب امرت رس میں
خندۂ گل ہے ان کا تبسم
صبح بہاراں ان کے بس میں
کیفؔی تم بھی قرب کے طالب
فرق کرو کچھ عشق و ہوس میں

زکی کیفی
ذکی کیفی

No comments:

Post a Comment