خود اپنے ہونٹوں پہ صدیوں کی پیاس رکھتا ہے
وہ ایک شخص جو مجھ کو اداس رکھتا ہے
نہیں وہ رنگ پہ رنگوں سا عکس ہے اس کا
نہیں وہ پھول پہ پھولوں سی باس رکھتا ہے
یہ اور بات، کہ اقرار کر نہیں پاتا
نہیں ہے کوئی بھی امید جس کے آنے کی
دل اس کے آنے کے سو سو قیاس رکھتا ہے
جو تجھ کو ملنے سے پہلے بچھڑ گیا حیدر
تُو کس طرح اسے پانے کی آس رکھتا ہے
حیدر قریشی
No comments:
Post a Comment