Tuesday, 13 December 2016

خود اپنے ہونٹوں پہ صدیوں کی پیاس رکھتا ہے

خود اپنے ہونٹوں پہ صدیوں کی پیاس رکھتا ہے
وہ ایک شخص جو مجھ کو اداس رکھتا ہے
نہیں وہ رنگ پہ رنگوں سا عکس ہے اس کا
نہیں وہ پھول پہ پھولوں سی باس رکھتا ہے
یہ اور بات، کہ اقرار کر نہیں پاتا
مگر وہ دل تو محبت شناس رکھتا ہے
نہیں ہے کوئی بھی امید جس کے آنے کی 
دل اس کے آنے کے سو سو قیاس رکھتا ہے
جو تجھ کو ملنے سے پہلے بچھڑ گیا حیدر
تُو کس طرح اسے پانے کی آس رکھتا ہے 

حیدر قریشی

No comments:

Post a Comment