کوزہ گر نے جب اتارا چاک پر
کچھ لکیریں پڑ گئی تھیں خاک پر
زندگی اس طور گزری ہے ابھی
تُو ادھورا نقش ہے ادراک پر
سامنے ہے پر ہوا کے روپ میں
بات کہنی اس قدر مشکل نہ تھی
لوگ ہنستے ہیں ترے بے باک پر
خوں مسلسل پی رہی ہے یہ زمیں
اب کوئی رہتا نہیں افلاک پر
بھوک سے ہم مر گئے اور شہر میں
گفتگو ہوتی رہی پوشاک پر
اک سمندر پار کرنا ہے ہمیں
اور بھروسہ ہے خس و خاشاک پر
دیکھتا کیا ہے، ہنر کو آزما
اے رفوگر! دامنِ صد چاک پر
عابد حسین عابد
No comments:
Post a Comment