Tuesday, 13 December 2016

کوزہ گر نے جب اتارا چاک پر

کوزہ گر نے جب اتارا چاک پر
کچھ لکیریں پڑ گئی تھیں خاک پر
زندگی اس طور گزری ہے ابھی
تُو ادھورا نقش ہے ادراک پر
سامنے ہے پر ہوا کے روپ میں
وار کیا ہو دشمنِ چالاک پر
بات کہنی اس قدر مشکل نہ تھی
لوگ ہنستے ہیں ترے بے باک پر
خوں مسلسل پی رہی ہے  یہ زمیں
اب کوئی رہتا نہیں افلاک پر
بھوک سے ہم مر گئے اور شہر میں
گفتگو ہوتی رہی پوشاک پر
اک سمندر پار کرنا ہے ہمیں
اور بھروسہ ہے خس و خاشاک پر
دیکھتا کیا ہے، ہنر کو آزما
اے رفوگر! دامنِ صد چاک پر

عابد حسین عابد

No comments:

Post a Comment