اور کیا تیرے خد و خال کو دیکھا جاتا
تیری آنکھوں کے مقابل نہیں ٹھہرا جاتا
میں نے دیکھی ہے تِرے پھول سے چہرے پہ ہنسی
مجھ سے روتا ہوا چہرہ نہیں دیکھا جاتا
اب حقائق نہ سمجھنے کا گِلہ کرتے ہو
زندگی ایک بھکارن کی طرح آن ملی
ورنہ جاں تم پہ لٹاتے، تمہیں چاہا جاتا
چل ہٹا سامنے آنکھوں سے سلگتا منظر
چھوڑ، اب اور تماشا نہیں دیکھا جاتا
کھیلنے والے اگر کھیل سے واقف ہوتے
اتنا آساں تو کبھی کھیل نہ ہارا جاتا
روند ڈالے گا یہ ٹھہرے ہوۓ لمحے عابدؔ
وقت ہر گام نئے موڑ بدلتا جاتا
عابد حسین عابد
No comments:
Post a Comment