کہیں سے روکا گیا اور کہیں پہ مارا گیا
یقیں کا کھیل یہاں اس طرح بھی ہارا گیا
چلو، ہمی تری گلیوں میں قتل ہو آئیں
بنامِ عشق کوئی نام ہے پکارا گیا
کنارا ڈھونڈھنے نکلے تھے دوسرا ہم بھی
الگ کیا مجھے میرے وجود سے پہلے
پھر اس کے بعد نئے کرب سے گزارا گیا
اب اسکی کھوج میں صحرا کی خاک چھانتا ہوں
نجانے کون سی منزل کو وہ ستارا گیا
میں چاہتا تھا کہ اگلی صفوں میں جا کے لڑوں
میانِ شہر مگر سازشوں میں مارا گیا
بس ایک فیصلہ عجلت میں کیا ہوا عابدؔ
زمیں تمہاری گئی،۔ آسماں ہمارا گیا
عابد حسین عابد
No comments:
Post a Comment