Friday, 10 September 2021

رغبت ہمیں ہر در سے ہے اس در کے علاوہ

 رغبت ہمیں ہر در سے ہے اس در کے علاوہ

کچھ مل نہ سکا ہم کو مقدر کے علاوہ

ہیں کیسے یہ موسم کہ نگاہوں کے لیے آج

کچھ بھی نہیں دہشت زدہ منظر کے علاوہ

کس طرح کے طوفاں کی ہے آمد نہیں معلوم

ہر شے میں ہے اک شور سمندر کے علاوہ

رہ پایا نہ دنیا میں کوئی عمر سے بڑھ کر

رستم بھی کئی آئے، سکندر کے علاوہ

حاصل تو بالآخر وہی دو گز کی زمیں ہے

کچھ ہاتھ نہ آئے گا اسی گھر کے علاوہ

دریائے نِگہ خشک کبھی ہو نہیں پایا

ہر چیز روا ہے غمِ گوہر کے علاوہ

اس گرمیِ محشر میں گنہہ گار کو آخر

کیا ہو گی طلب ساقئ کوثر کے علاوہ

طاہر مِری عادت رہی ہر ایک کی خاطر

کچھ اور نہ سوچا کبھی بہتر کے علاوہ


طاہر بلال

No comments:

Post a Comment