رغبت ہمیں ہر در سے ہے اس در کے علاوہ
کچھ مل نہ سکا ہم کو مقدر کے علاوہ
ہیں کیسے یہ موسم کہ نگاہوں کے لیے آج
کچھ بھی نہیں دہشت زدہ منظر کے علاوہ
کس طرح کے طوفاں کی ہے آمد نہیں معلوم
ہر شے میں ہے اک شور سمندر کے علاوہ
رہ پایا نہ دنیا میں کوئی عمر سے بڑھ کر
رستم بھی کئی آئے، سکندر کے علاوہ
حاصل تو بالآخر وہی دو گز کی زمیں ہے
کچھ ہاتھ نہ آئے گا اسی گھر کے علاوہ
دریائے نِگہ خشک کبھی ہو نہیں پایا
ہر چیز روا ہے غمِ گوہر کے علاوہ
اس گرمیِ محشر میں گنہہ گار کو آخر
کیا ہو گی طلب ساقئ کوثر کے علاوہ
طاہر مِری عادت رہی ہر ایک کی خاطر
کچھ اور نہ سوچا کبھی بہتر کے علاوہ
طاہر بلال
No comments:
Post a Comment