Friday, 10 September 2021

بدلتے عکس ہیں شیشے نہیں بدل جاتے

 بدلتے عکس ہیں، شیشے نہیں بدل جاتے

خدا بدلنے سے سجدے نہیں بدل جاتے

گمان سارے ہوئے ہیں یقین میں تبدیل

یوں ناگہاں تو ارادے نہیں بدل جاتے

مِرے خلاف کسی نے تو ورغلایا ہے

دو ایک دن میں وہ ایسے نہیں بدل جاتے

خدا کے واسطے اب تو یقیں کرو ہم پر

بدلنا ہوتا تو پہلے نہیں بدل جاتے

پڑھے لکھے سبھی تہذیب یافتہ تو نہیں

قبا بدلنے سے چولے نہیں بدل جاتے

ہر اک قبیلے کا اپنا خدا نہیں ہوتا

"مناظرے سے عقیدے نہیں بدل جاتے"

جو راس آتی ہمیں عشق کی فضا حشمت

ہمارے طور طریقے نہیں بدل جاتے


حشمت علی انصاری

No comments:

Post a Comment