Thursday, 15 September 2022

بے سبب لب پر تبسم میں نہ تھا تو کون تھا

 بے سبب لب پر تبسم میں نہ تھا تو کون تھا

نرم لہجے میں ترنم، میں نہ تھا تو کون تھا

آپ کا طرذِ بیاں ہے دلنشیں جاناں، مگر

جاذبِ رنگ تکلم میں نہ تھا تو کون تھا

محفل تنہائی میں جو اشکِ پیہم تھے رواں

بارہا اس میں تلاطم میں نہ تھا تو کون تھا

خامشی اک ادا تھی باوجودِ شورِ دنیا

وجہِ اندازِ گم سم میں نہ تھا تو کون تھا

شام پلکوں پر سجی تو صبح کی قوسیں ملیں

شام و صبح کا تصادم، میں نہ تھا تو کون تھا


طاہر بلال

No comments:

Post a Comment