Thursday, 15 September 2022

در پہ دستک کی صدا ہے کیا ہے

 در پہ دستک کی صدا ہے کیا ہے

واہمہ ہے کہ خدا ہے، کیا ہے

دُور تک دشت کے سانٹے میں

یہ جو کچھ بول رہا ہے، کیا ہے

قافلہ دِید کا ٹھہرا کب تھا

اب جہاں آ کے رُکا ہے، کیا ہے

شہرِ انوار میں سایہ کیسا

کیا کوئی میرے سوا ہے، کیا ہے

میری مٹی ہے، مقابل یہ طلسم

کس قدر ہوشرُبا ہے، کیا ہے

کیسے کہہ دوں کہ کوئی چاند نہیں

یہ جو روشن سا دھرا ہے، کیا ہے


ثمینہ چیمہ

No comments:

Post a Comment