اب کوئی دشت نوردی کو کدھر جاتا ہے
جس کو وحشت کی طلب ہوتی گھر جاتا ہے
آشنا میری طبیعت سے ہے سورج کا مزاج
اک دِیا روز مِرے بام پہ دھر جاتا ہے
کیا کہیں کیسا ہوا شہرِ تمنا برباد
اشک بھی آنکھ تک آئے ہوئے مر جاتا ہے
راستے اور بھی جاتے ہیں ادھر کو لیکن
وہ مِرے دل سے گزرتے ہوئے گھر جاتا ہے
مجھ کو درکار تِرے غم سے سوا بھی کچھ ہے
زخم کی بات نہ کر، زخم تو بھر جاتا ہے
روکنا کارِ ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں
اس کو جانے دے مِرے دوست اگر جاتا ہے
تجھ کو منزل کی پڑی ہے مِرے پیارے مظہر
مجھ کو اس بات کا ڈر ہے کہ سفر جاتا ہے
احسان الحق مظہر
No comments:
Post a Comment