Wednesday, 6 March 2024

یادوں کا جزیرہ شب تنہائی میں

یادوں کا جزیرہ شب تنہائی میں

مصروف ہے یادوں کی پذیرائی میں

اب بھی وہی اظہار تغافل کا مزاج

اب بھی وہی اندیشہ شناسائی میں

اثبات نفی ہو کہ نفی ہو اثبات

کیوں جاؤں میں الفاظ کی گہرائی میں

کچھ لوگ تو منزل کی خبر بھی لے آئے

ہم مست رہے لذت خود رائی میں

چھوڑوں بھی خیال ان کا تو کیا حاصل ہو

کیا خاک کمی آئے گی رسوائی میں

آنے میں مسیحا کو تھا پہلے ہی حجاب

ناصح بھی تھا اندیشۂ رسوائی میں

تفریق کے خوگر تو سبھی ایک ہوئے

مصروف ہیں ہم لوگ صف آرائی میں

کس درجہ مسرت ہے کہ اب خون شہید

کام آیا تری انجمن آرائی میں


عزیزالرحمٰن شہید فتح پوری

عزیزالرحمٰن قریشی

No comments:

Post a Comment