کمالِ عشق دکھانے پہ اب کمر باندھو
نئی زمیں ہے مضامین پر اثر باندھو
حصارِ جسم سے باہر بھی وُسعتیں ہیں بہت
چمن کی سیر کرو، تتلیوں کے پر باندھو
مزا کچھ اور ہی آئے گا دل لگانے میں
وفا کی شاخ سے اُمید کے ثمر باندھو
غزل کو مان لیا سب نے آبروئے سخن
شعور و فکر کے موضوعِ معتبر باندھو
غزال فِکر کے آوارہ گھومتے ہیں سحر
تم ان کو لا کے کسی روز اپنے گھر باندھو
سحر سعیدی
منیرالدین
No comments:
Post a Comment