Monday, 18 March 2024

کہو پیارے کہ یہ بازار ہے

آنسو


کہو پیارے کہ یہ بازار ہے

مانو کہ یہ بازار ہے سچائی کا بازار

تم سچ سچ بتاؤ دام

چھب دکھلاؤ

گاہک کی یہی مرضی ہے

تم مرضی کا سودا ہو ادھر گھومو جھکو کچھ اور جھک جاؤ

کہ جھکنے ہی سے جھکتی ہے جسے تقدیر کہتی ہے یہ دنیا

جس کو تم دنیا سمجھتے ہو

سبھی شہروں میں یہ بازار ہے

لیکن دریچہ دل کا کھلتا ہے

تو اس بازار کا منظر جھلکتا ہے

میں جھکتا ہوں میں جھکتا ہوں

کوئی مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ہاں کچھ اور جھک جاؤ

تقاضا ہے تقاضوں کی یہ دنیا کتنی سچی ہے

بڑی پیاری ہے یہ دنیا

دریچہ دل کا کھل جائے تو کھل جاتی ہے زپ پاکٹ کی دوبارہ

دریچہ دل کا کھلتا ہے

مگر دل کی کلی چھوڑو یہ باتیں

ہاں یہ باتیں جھوٹ ہیں

سچی ہے یہ دنیا

ذرا اک چھب دکھاؤ گھوم جاؤ گھومتے جاؤ

کہ دنیا گھومتی ہے گول ہے پیارے

سبھی گولائیاں اپنے کناروں سے ڈھلک جاتی ہیں

جب بازار سونا ہو

اتر جاتا ہے غازہ

اور دل کہتا ہے

رونے دو

کچھ اتنے زور سے برسو کہ دھل جائے یہ گلشن خواہشوں کا

دل کی مٹی سے اگیں کلیاں گلابوں کی

دریچہ دل کا کھل جائے تو گلیوں میں مہکتے خواب

خوابوں سے ملیں

دل دل سے مل جائے


فہیم جوزی

محمد اقبال کنور

No comments:

Post a Comment