وہ آفتاب تھا روشن اساس چھوڑ گیا
عجیب شخص تھا مِلنے کی آس چھوڑ گیا
ضرورتوں کو بُلا کے ہوس کی سرحد پر
بنا کے مجھ کو ضعیف الحواس چھوڑ گیا
قضا کے رتھ سے اُترتے ہی ڈُوبتا سُورج
شبِ سیاہ کے ہاتھوں میں راس چھوڑ گیا
بیانِ آرزوئے زندگی لکھا کر وہ
مزاجِ حُسن کو قسمت شناس چھوڑ گیا
قبولیت کا سمندر بھی کیسا شاکی تھا
لبوں پہ میرے دُعاؤں کی پیاس چھوڑ گیا
گنوا کے قِسطوں میں الماسِ زندگی اشرف
وہ اپنے پیچھے ہزاروں قیاس چھوڑ گیا
صغیر اشرف وارثی
صغیراللہ اشرف
No comments:
Post a Comment