شک اور وہم کی عادت میں مارا جاؤں گا
میں اپنی فہم و فراست میں مارا جاؤں گا
میں مارا جاؤں گا اِس عجز و انکساری میں
لحاظ، شرم، مروّت میں مارا جاؤں گا
تِرا سوالِ محبت تو ٹھیک ہے، لیکن
میں اب جوابِ محبت میں مارا جاؤں گا
میں اپنے دل کی سُنوں یا دماغ کی مانُوں
دو دُشمنوں کی عداوت میں مارا جاؤں گا
مجھے اشارہ مِلا ہے یہ خواب میں اطہر
میں ایک روز شہادت میں مارا جاؤں گا
اطہر علی
No comments:
Post a Comment