عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بلائیے مِرے آقاﷺ مجھے مدینے میں
پڑا ہوں ہِند میں مرنے میں ہوں نہ جینے میں
جلا کے خاک سیہ کر دیا کلیجے کو
بھڑک کے آتشِ فرقت نے میرے سینے میں
یہی رہا غمِ فرقت تو مار ڈالے گا
گُھلا گُھلا کے مجھے سال چھ مہینے میں
جو دن تمام ہوا لختِ دل کے کھانے میں
تو شب کٹی مِری خونِ جگر کے پینے میں
مدد کا وقت ہے اے ناخدائے کُل آ جا
کہ اب تو آ گیا طوفاں مِرے سفینے میں
گُلاب و عنبر و مُشک و حنا کی رُوحیں ہیں
بسی ہوئی مِری مولاﷺ تِرے پسینے میں
یہ شومئ قسمت نہیں تو کیا نشتر
رہوں میں ہند میں، آقاﷺ مِرا مدینے میں
نشتر قائم گنجوی
محمد حنیف خاں نشتر
No comments:
Post a Comment