Monday, 6 July 2026

یہ کیف حسن اس پہ یہ مستی شباب کی

 یہ کیف حُسن اس پہ یہ مستی شباب کی

یہ آپ ہیں کہ موج ہے کوئی شراب کی

سُونی ہے بزمِ عالمِ اِمکاں تِرے بغیر

ظُلمت ہے روشنی بھی شبِ ماہتاب کی

کیوں میری لغزشوں پہ زمانہ ہے طعنہ زن

سب لغزشیں معاف ہیں عہدِ شباب کی

ذوقِ سلیم چاہیے شاعر کے واسطے

حاجت ہے میکشی کی نہ فن پر کتاب کی

وہ سرد سرد آہیں وہ اختر شماریاں

دلچسپیاں تھیں یہ مِرے عہدِ شباب کی

جذباتِ حُسن و عشق سے لبریز یہ غزل

تصویر ہے کسی دلِ خانہ خراب کی

کیف آفریں ہے میرا غمِ عشق اے بہار

لذت نہ مجھ سے پُوچھ تُو ایسے عذاب کی


امیر چند بہار

No comments:

Post a Comment