پڑی افتاد کچھ ایسی کہ دل سنبھلا نہیں ہے
"مگر تم نے مِری جاں مسئلہ سمجھا نہیں ہے"
قبیلہ ایک ہے اپنا تعلق اور کیا ہے
سو اپنے درمیاں ایسا کوئی جھگڑا نہیں ہے
بہت مضبوط ہیں اعصاب لیکن اے مِرے دل
تِرا ہر جبر سہ لوں، حوصلہ ایسا نہیں ہے
مسلسل دل شکستہ، دل گرفتہ پھر رہا ہوں
مسلسل کرب میں ہوں، فیصلہ ہوتا نہیں ہے
چلو پوچھیں سبب کیا ہے، جو گم رہنے لگا ہے
بہت دن ہو گئے اشرف سلیم آیا نہیں ہے
اشرف سلیم
No comments:
Post a Comment