Friday, 17 July 2026

محبت کو ریا کی قید سے آزاد کرنا ہے

 محبت کو ریا کی قید سے آزاد کرنا ہے

ہمیں پھر آرزؤں کا نگر آباد کرنا ہے

شکست فاش دینی ہے من و تو کے رویوں کو

مراسم کی بحالی کا ہنر ایجاد کرنا ہے

یہ کیا جبر تعلق ہے کہ پھر تیرے حوالے سے

کسی کو بھول جانا ہے کسی کو یاد رکھنا ہے

گزشتہ عہد میں بھی جرم تھا یہ کار حق گوئی

ہماری نسل کو بھی یہ بصد افتاد کرنا ہے

کئی دیگر حوالے بھی سرور و راحت دل ہیں

گئے موسم کی نسبت سے تمہیں بھی یاد کرنا ہے

ہمارے شعر اگر جذبوں کو خوشبو دے نہیں سکتے

تو پھر تو شعر کہنا وقت کو برباد کرنا ہے


احمد امیر پاشا

No comments:

Post a Comment