ہم آج بہت ان کو خفا دیکھ رہے ہیں
اے شوخیٔ تقدیر یہ کیا دیکھ رہے ہیں
یہ آپ کی پُرسش کا ملا ہے ہمیں انعام
کچھ درد محبت کو سوا دیکھ رہے ہیں
پہچان میں آتے نہیں پہچانے ہوئے لوگ
بدلی ہوئی دنیا کی ہوا دیکھ رہے ہیں
ہم امن کے گھر میں ہیں مگر یہ بھی تو سچ ہے
منڈلاتی ہوئی سر پہ قضا دیکھ رہے ہیں
کچھ اور سوا ہو گئیں بے تابیاں دل کی
کیا خوب یہ تاثیر دُعا دیکھ رہے ہیں
ہر سمت اندھیرا ہے اندھیرا ہے اندھیرا
پھیلی ہوئی زُلفوں کی گھٹا دیکھ رہے ہیں
کچھ کم نہیں یہ شیخ و برہمن کی کرامات
ہم گوشت سے ناخن کو جُدا دیکھ رہے ہیں
لگ جائے گا سُورج کو گُہن آج یقیناً
رُخ کو تِرے زُلفوں سے گھرا دیکھ رہے ہیں
یہ بات رہے پیش نظر آپ کے گوہر
اب رنگِ غزل لوگ نیا دیکھ رہے ہیں
گوہر شیخ پوروی
سید علی حسنین
No comments:
Post a Comment