نظر نیچی قدم دھیمے کلام آہستہ آہستہ
سلیقہ سیکھ لیتے ہیں غلام آہستہ آہستہ
ہماری جلد بازی نے ہمیں بہکا دیا ورنہ
ہمارے ساتھ چلتی خوش خرام آہستہ آہستہ
ابھی بیکار بیٹھا سب کے قصے سنتا رہتا ہوں
مِری مرضی کا مل جائے گا کام آہستہ آہستہ
جنہیں انگلی تھما کر میں نئے رستے دکھاتا ہوں
وہی جیون کو کر دیں گے حرام آہستہ آہستہ
بہت اِتراتا پھرتا ہوں، بڑی شہرت کما لی ہے
زمانہ بھول جائے گا یہ نام آہستہ آہستہ
اسے ہر دن مِرے یاروں کے بارے میں خبر دینا
مِرے قاتل سے لینا انتقام آہستہ آہستہ
مشتاق بخاری
No comments:
Post a Comment