Sunday, 26 July 2026

نظر نیچی قدم دھیمے کلام آہستہ آہستہ

 نظر نیچی قدم دھیمے کلام آہستہ آہستہ

سلیقہ سیکھ لیتے ہیں غلام آہستہ آہستہ

ہماری جلد بازی نے ہمیں بہکا دیا ورنہ

ہمارے ساتھ چلتی خوش خرام آہستہ آہستہ

ابھی بیکار بیٹھا سب کے قصے سنتا رہتا ہوں

مِری مرضی کا مل جائے گا کام آہستہ آہستہ

جنہیں انگلی تھما کر میں نئے رستے دکھاتا ہوں

وہی جیون کو کر دیں گے حرام آہستہ آہستہ

بہت اِتراتا پھرتا ہوں، بڑی شہرت کما لی ہے

زمانہ بھول جائے گا یہ نام آہستہ آہستہ

اسے ہر دن مِرے یاروں کے بارے میں خبر دینا

مِرے قاتل سے لینا انتقام آہستہ آہستہ


مشتاق بخاری

No comments:

Post a Comment