Sunday, 26 July 2026

پتلۂ خاک میں ہے بھید چھپا کیا کہیے

 پتلۂ خاک میں ہے بھید چھپا کیا کہیے

کھول دیں پھر تو ہو اک شور بپا کیا کہیے

ہم ہوں معدوم جہاں آپ ہوں ممکن ہی نہیں

کب ضیا شمس سے ہوتی ہے جدا کیا کہیے

تم کو ہی چھوڑ دیں یا خود کو ہی ہم کھو بیٹھیں

اتنی ہی بات میں ملتا ہے پتا کیا کہیے

کون ظاہر ہے سوا آپ کے جب میں نے کہا

ہو گئے پھر تو خفا ہو کے کیا کہیے

حشر تک ہوش میں ہم آ نہیں سکتے ہیں اسد

پی چکے ساقی سے وہ جام فنا کیا کہیے


اسد چشتی

سید تصدق علی اسد

No comments:

Post a Comment