پتلۂ خاک میں ہے بھید چھپا کیا کہیے
کھول دیں پھر تو ہو اک شور بپا کیا کہیے
ہم ہوں معدوم جہاں آپ ہوں ممکن ہی نہیں
کب ضیا شمس سے ہوتی ہے جدا کیا کہیے
تم کو ہی چھوڑ دیں یا خود کو ہی ہم کھو بیٹھیں
اتنی ہی بات میں ملتا ہے پتا کیا کہیے
کون ظاہر ہے سوا آپ کے جب میں نے کہا
ہو گئے پھر تو خفا ہو کے کیا کہیے
حشر تک ہوش میں ہم آ نہیں سکتے ہیں اسد
پی چکے ساقی سے وہ جام فنا کیا کہیے
اسد چشتی
سید تصدق علی اسد
No comments:
Post a Comment