ملا نہ اس طرح، جس طرز سے زمانہ ملا
یہ کون شخص تھا جو مجھ سے والہانہ ملا
اور اب تو رزق ہی وابستگی کا محور ہے
اسی کے ہو گئے جس در سے آب و دانہ ملا
لگا کہ جیت مِری اس کو اپنی جیت لگی
شکست کھا کے بھی وہ مجھ سے فاتحانہ ملا
بڑے مکان کی حسرت میں جاں گھلائیں کیا
یہی بہت ہے کہ رہنے کو اک ٹھکانہ ملا
نعیم چرچے ہیں لوگوں میں اس کی نخوت کے
مجھے تو جب بھی ملا ہے وہ عاجزانہ ملا
ضیاالدین نعیم
No comments:
Post a Comment