Thursday, 22 April 2021

درد جب جب جہاں سے گزرے گا

 درد جب جب جہاں سے گزرے گا

قافلہ ہو کے جاں سے گزرے گا

فکر میں آئے گا سوال مِرا

اور جواب اس کا ہاں سے گزرے گا

میں تو یہ سوچ بھی نہیں سکتا

کوئی شکوہ زباں سے گزرے گا

سامنے آئے گا مِرا کردار

ذکر جب داستاں سے گزرے گا

پھر مجھے یاد آئے گا بچپن

اک زمانہ گماں سے گزرے گا

رہگزر ہے اداس میری طرح

جانے کب وہ یہاں سے گزرے گا

لوگ حیرت میں ڈوب جائیں گے

جب بھی وہ درمیاں سے گزرے گا

یہ پرندہ جو قید میں ہے ابھی

ایک دن آسماں سے گزرے گا


گووند گلشن

No comments:

Post a Comment