جنون ہے تو اسے بے قرار رہنے دے
اگر ہے عشق تو بے اختیار رہنے دے
ابھی نگاہ کے آگے غبار رہنے دے
ہوائے دشت مجھے انتظار رہنے دے
جو حشر ٹوٹ چکا اس کا کب تلک ماتم
نہ سن صدائے دلِ تار تار رہنے دے
گنوا دیا ہے ہمیشہ کے واسطے تو نے
نہ کر تلاش مجھے اب کی بار رہنے دے
دعائیں تھک گئیں ہیں آسماں کے تخت کے نشیں
تُو التجا پہ مِرا اعتبار رہنے دے
جدائی عشق تمنا نہ اک سوال میں پوچھ
نصابِ درد کو ترتیب وار رہنے دے
ظل ہما
No comments:
Post a Comment