Friday, 18 June 2021

دو گھڑی ان کے ہاں گزار آئے

دو گھڑی ان کے ہاں گزار آئے

عشق کی عاقبت سنوار آئے

ہر نفس اک نیا تصادم ہے

وقت ٹھہرے تو کچھ قرار آئے

کچھ تو ہو اہل دل کی دنیا میں

مے ملے یا کہیں بہار آئے

اپنا انجام زیست کیا ہو گا

ہم اگر موت کو بھی ہار آئے

تھک چکی ہے شعاع شمس کہن

روشنی کا نیا منار آئے

ہم ازل سے رواں تھے سوئے عدم

راہ میں اپنے ہی مزار آئے

ہر جگہ زیست کار فرما ہے

حشر تک موت کو پکار آئے

ٹھہرا رد عمل بھی ایک عمل

وقت لوٹے تو بار بار آئے


طفیل دارا

No comments:

Post a Comment