لہو لہو ہے جگر، آب آب آنکھیں ہیں
خیال غرقِ گماں ہے، زبان ہے عاجز
قلم کی نبض ہے ساکت، بیاض مردہ ہے
کمالِ موجِ سخن پہ عجیب سکتہ ہے
میں ڈھونڈتا ہوں وہ جگنو جو اس اندھیرے
ضیائے راحتِ دل کا کچھ اہتمام کریں
میں ڈھونڈتا ہوں وہ کلیاں جو ایسے پت جھڑ
حصارِ باغِ غربیاں میں رنگ عام کریں
بصد تلاش مجھے کچھ نہیں کہیں ملتا
بہارِ رنگِ چمن کس طرح سے لوٹے گی
شجر جو کاٹ دے کوئی تو پھل نہیں لگتا
کلی جو کوئی مسل دے تو گل نہیں کھلتا
جو کچھ نہیں تو چلو لفظ ڈھونڈ لاتا ہوں
وہ لفظ جو دلِ مضطر کے واسطے شاید
دوا کی شکل میں مرہم کے جیسا کام کریں
تمہاری گودیاں اجڑی ہیں، بانہیں خالی ہیں
جگر فگار ہے، نالے لبوں پہ جاری ہیں
شکستہ قلب ہے، آنکھیں لہو بہاتی ہیں
تمہاری سسکیاں عرشِ خدا ہلاتی ہیں
نہ بھول پاؤ گی اب تم کبھی وہ یومِ ستم
یزیدِ عصر نے ویراں کیا تمہارا چمن
کتابِ وقت کے پنے پلٹ کے دیکھو ذرا
نظر میں آئے گا اک دشت، دشتِ کرب و بلا
وہ چھ مہینے کا بچہ جو بولتا بھی نہ تھا
وہ ابنِ شاہِ شہیداں، ربابؑ کا پیارا
وہ نحر ہو گیا تیرِ ستم سے ظالم کے
کہ جسیے اونٹ ہو قربان کوئی نیزے سے
اٹھا کے لاش جو آئے حسینؑ خیمے میں
لہو میں دیکھ کے بچے کو ماں پہ کیا گزری
لیا جو ہاتھوں میں لاشہ تو رو کے اتنا کہا
تری اجل پہ تو جن و ملک بھی روتے ہیں
کیا تیرے جیسے بھی دنیا میں نحر ہوتے ہیں
اسی ورق پہ ہے درج ایک یہ بھی بابِ لہو
وہ تیرہ سال کا قاسمؑ، یتیمِ سبطِؑ نبیﷺ
وہ امِ فرواؑ کی آنکھوں کا نور، ابنِ حسنؑ
وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوا رن میں ظلمِ اعدا سے
وہ جس کی لاش جو انب میں اس طرح بکھری
کہ برگ برگ ہو جیسے کوئی گلِ لالہ
سمٹ کے آیا جو لاشہ تو ایک گٹھری تھی
ہزار ٹکڑے تھے قاسمؑ کے ایک گٹھری تھی
یہ لاشہ مادرِ قاسمؑ کو جب ملا ہو گا
نہ جانے ماں نے یہ غم کس طرح سہا ہو گا
لہو میں لکھی ہوئی کچھ سطور یہ بھی ہیں
نبیؐ کی پیاری نواسی، وہ زینبِؑ عالی
وہ اس کے عونؑ و محمدؑ، مثالِ قلب و جگر
وہ جن کی کم سنی و نازکی کو دیکھیں تو
غریقِ آب ملامت ہوں شرم سے کلیاں
وہ شاہزادے ہوئے جب شہید تو گویا
جگر فگار ہوا، قلب پھٹ گیا ماں کا
لباسِ سوگ میں لپٹا ہے یہ فسانۂ حق
یہ وہ فسانہ ہے جو آج تک بھی جاری ہے
یہ اپنے راج دلارے جو کھوئے ہیں تم نے
وجودِ خیر کو نذرانہ لہو دے کر
وہ عزم بارگہِ حق میں نبھایا ہے
ربابؑ و فرواؑ و زینبؑ نے جو سکھایا ہے
تمہارے صبر کو، جرأت کو، حوصلے کو سلام
تمہاری شان کو، رفعت کو، مرتبے کو سلام
ارسلان علی زیدی
No comments:
Post a Comment