Wednesday, 15 September 2021

سادھو سب سچ جان چکا تھا

 سادھو


سادھو پربت پار کر کے چوٹی پر ہی پہنچا تھا کہ

دور سے مندر کی گھنٹی کو سُن کر وہ حیران ہوا اور

پاس گیا تو اُس نے دیکھا 

مندر کے دالان میں بیٹھی رادھا پُوجا کر رہی ہے

اس منظر کو دیکھ کے سادھو خاموشی سے بیٹھ گیا 

چُپ سادھے وہ دیکھ رہا تھا

رادھا کیسے خاموشی کی سادھنا میں گا رہی ہے

پنچھیوں کے جھمگٹ میں اس موہنی نے 

راگ میگھ کو چھیڑا تو آسمان سے پانی کی چند بُوندیں ٹپکیں

سادھو نے ماتھا ٹیکا اور غار کی سمت نکل پڑا

رستے میں آواز سُنی تو سادھو پھر حیران ہوا

دور کہیں سے چٹانوں میں گونجتی اک آواز آئی

سادھو نے جب کان دھرے تو اُس نے جانا

کہنے والا کہہ رہا تھا؛

مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰه

وہ پاس گیا تو اس نے دیکھا 

سوکھی ٹانگوں والا ایک خوبرو سا چرواہا 

اپنا ریوڑ چھوڑ چھاڑ کر چوٹی پر چڑھا ہوا ہے

کچھ اونچا اونچا بول رہا ہے

بڑی ہی دلنشیں صدا ہے جو پربتوں میں گونج رہی

آسماں بھی لرز رہا ہے اور زمیں بھی جُھوم رہی ہے

سادھو یہ سب دیکھ کر بھی خاموشی سے کھڑا ہوا تھا

سادھو نے پھر نظر اُٹھا کر آسمان کو تکا 

اور چُپ توڑ کر بول پڑا؛

انسانوں کی بستی سے میں دور چلا تھا

 کہ میں تجھ کو ڈھونڈ سکوں

تُو تو ہر ذرّے میں ہے یہ راز مجھ پہ اب کھلا ہے

پر جو تیرا نام لیے نگر نگر میں پِھرتے ہیں وہ انساں ہیں؟

اگر وہ آدم واسی ہیں تو مجھ کو یہ بتلا دے تُو

میں ان کی بستی چھوڑ چھاڑ کر کتنے جنگل پار کئے

ان پربتوں میں آ بسا ہوں

یاں تو کوئی مجلس ہے نا جلسہ ہے

پر تیری پُوجا ہو رہی ہے

وہ اک ہستی جو حِرا سے اُٹھ کر 

تیرا نعرہ مارتی پورے عرب پہ چھا گئی تھی

آج اس پربت پر بھی

تورے نام کے سنگ، اس کا نام گونج رہا ہے

میں بھی آدم واسی ہوں اور ان کی ہی بستی سے ہوں

انسانوں کی بستی میں اب بہت سے نعرے گونج پڑے ہیں

اور ان نعروں کی گونج میں

یہ صدائیں مدھم ہو چکی ہیں

وہ یہ نام جانتا تھا

سو اس کو پہچان چکا تھا

سادھو سب سچ جان چُکا تھا


احسن اقبال احمد

No comments:

Post a Comment