دل میں کوئی جناب تھا ہی نہیں
ہمیں دل دستیاب تھا ہی نہیں
وہ کبھی ہمرکاب تھا ہی نہیں
تھا اگر بے حجاب تھا ہی نہیں
حُسن کا سا حباب تھا ہی نہیں
عشق میں تو یہ باب تھا ہی نہیں
غم نہیں عشق کا، یہ رونا ہے
عشق میں اضطراب تھا ہی نہیں
حشر میں بھی بیان میرا تھا
مجھ سا حاضر جواب تھا ہی نہیں
سُنوں میں ان کی بھی یہ اچھی کہی
مجھ سے جن کا خطاب تھا ہی نہیں
دل مِرا لے کے وہ یہ کہتے ہیں
تیرا میرا حساب تھا ہی نہیں
یہ تو ہے عشق کی قدر دانی
ورنہ مجھ سا نواب تھا ہی نہیں
جُنوں بدنام کر گیا مجھ کو
ورنہ میں تو خراب تھا ہی نہیں
شدتِ کرب ہی بدلتی رہی
اور تو انقلاب تھا ہی نہیں
دن تھا روشن تمہاری صورت سے
سامنے آفتاب تھا ہی نہیں
پڑھ لیا وحدت الوجود بہت
تیرا کوئی جواب تھا ہی نہیں
خوش تھے عاشق بھی جا کے دوزخ میں
وہاں ان پر عذاب تھا ہی نہیں
کیوں نہ دل بُغض سے جلیں ان کے
دوسرا بُو ترابؑ تھا ہی نہیں
روئیے کس لیے ہزیمت پر
میں کبھی کامیاب تھا ہی نہیں
دل مِرا کیوں مچل گیا احسن
عشق میں اضطراب تھا ہی نہیں
احسن اقبال احمد
No comments:
Post a Comment