Thursday, 16 September 2021

دیکھ جاناں خاک ہیں ہم جسم مٹی سے بنا ہے

حدودِ تخیل


 دیکھ جاناں

خاک ہیں ہم

جسم مٹی سے بنا ہے

اور مٹی کی یقیناً ایک حد ہے

اور تم نے

تم نے بولا

جسم ہونا یا نہ ہونا کچھ نہیں ہے

تم نے ہم سے وُسعتوں کے جُھوٹ بولے

تم نے ہم سے یہ کہا؛ تم فارہہ ہو

فارہہ ہو؟

فارہہ جو ایک خیالی فلسفہ ہے

فارہہ جو جون کو زندہ نگل گئی

یار! پھر ہم چیز کیا ہیں؟

فارہہ جس نے کلائی کاٹ لی تھی

اور اب تک جی رہی ہے

فارہہ جو چاندنی میں چیختی تھی

فارہہ جو ایک مادہ ذات ہو کر

ایک *ایلفا بھیڑیا ہے

اور ہم جو یہ حقیقت جانتے تھے

جب تمہارے جُھوٹ کو بھی سچ سمجھ کر

جُھوٹ سننے اور کہنے لگ گئے تھے

تب حقیقت آشنا کیوں بن گئی تم؟

اور جب تم جانتی تھی

ان گماں کے راستوں میں

جب تمہارا ہاتھ واحد آسرا تھا

کس لیے پھر یہ کہا تھا

ہاتھ چھوڑو

ہاتھ چھوڑو، ہاتھ چھوڑو

جانتی ہو

جب سے تم نے یہ کہا ہے

ہاتھ چھوڑو

یہ ہمارے کان دشمن بن گئے ہیں

دل مسلسل دھمکیاں دینے لگا ہے

آنکھ نے بھی اب بغاوت چھیڑ دی ہے

نیند کی سب گولیاں بے کار ہیں اب

خودکشی اب آخری حل لگ رہا ہے

دیکھ ہم مُردار کھانے لگ گئے ہیں

نظم چھلنی ہو گئی ہے

بات یوں ہے خاک زادی

خاک ہیں ہم

جسم مٹی سے بنا ہے

اور مٹی کی یقیناً ایک حد ہے


حیدر علی

٭ ایلفا ALPHA

No comments:

Post a Comment