جب کبھی اس سے بات ہو جائے
آرزوئے حیات ہو جائے
کیوں نا سورج سے دوستی کر لیں
اس سے پہلے کہ رات ہو جائے
کیا ضروری ہے تیری چُپ ٹُوٹے
اور پھر کائنات ہو جائے
مجھ میں پرواز کرنا چاہتے ہو
سو ذرا احتیاط ہو جائے
جو اسے چُھو کے دیکھ لے عباس
ماہرِ نفسیات ہو جائے
عباس علوی
No comments:
Post a Comment