Thursday, 16 September 2021

جب کبھی اس سے بات ہو جائے

 جب کبھی اس سے بات ہو جائے 

آرزوئے حیات ہو جائے 

کیوں نا سورج سے دوستی کر لیں

اس سے پہلے کہ رات ہو جائے 

کیا ضروری ہے تیری چُپ ٹُوٹے

اور پھر کائنات ہو جائے 

مجھ میں پرواز کرنا چاہتے ہو 

سو ذرا احتیاط ہو جائے

جو اسے چُھو کے دیکھ لے عباس

ماہرِ نفسیات ہو جائے


عباس علوی

No comments:

Post a Comment