وبا کے دن
حبیبِ جاں
تم اگر وبا کے دنوں میں آئے
تو بصد عقیدت و محبت
تمہار ے ہاتھ چوموں گی
کیونکہ یہ میرے مسیحا کے ہاتھ ہیں
تمہاری چادر کو اپنے ہاتھوں سے
تہہ کر کے اپنے سرہانے رکھوں گی
کہ اس بُکل کی حرارت مجھ پر
کشف کے در کھولتی ہے
تمہارے جوتوں کو قرینے سے جوڑ کر
پلنگ کے پاس رکھوں گی
تمہارے ساتھ ایک پلیٹ میں
کھانا کھاؤں گی
اور تمہاری ضدی نظروں کا
بھرم رکھوں گی
نجانے مجھے کیوں لگتا ہے
کہ وبا کی آنکھ میں
محبت کرنے والوں کے لیے
کچھ حیا باقی ہو گی
پروین طاہر
No comments:
Post a Comment