Sunday, 3 April 2022

اک حسن میرے قتل کا سامان ہو گیا

 اِک حُسن میرے قتل کا سامان ہو گیا

صد شُکر، مرنا اور بھی آسان ہو گیا

تیری نظر کا مجھ پہ یہ احسان ہو گیا

ہر شعر میرا ترکشِ مِژگان ہو گیا

اِک مطلعِ غزل پہ اسے یاد کیا کِیا

پھر دیکھتے ہی دیکھتے دیوان ہو گیا

وہ جس ادائے ناز سے ہوتے ہیں ہمکلام 

میں تو لبوں کو دیکھ کے حیران ہو گیا

میں نے کہا تھا عشق میں سودا نہ کیجیے

کہتے ہو اب دعا کرو،۔ نقصان ہو گیا

کرتے ہو بات غیر سے اور مجھسے کہتے ہو

تُو کیوں سوال سُن کے پریشان ہو گیا

میں جس سے ڈر رہا تھا وہی سانحہ ہوا 

میں چل بسا تو شہر بھی ویران ہو گیا

سچ کہتے ہو کہ قول ہے معشوق کا سند 

جیسے کہ یہ بھی یزداں کا فرمان ہو گیا

کیسے لہو لہان کیے جاتے ہیں فقیر 

یہ دیکھ کے میں صاحبِ عرفان ہو گیا

آئے ہی آج آپ میرا حال پوچھنے

لیجیے میری موت کا اعلان ہو گیا

لائے گا کون تاب بھلا تیرے حُسن کی

دل بھی فدائے چاہِ زنخدان ہو گیا💝

احسن میاں یہ بول گئے میر خواب میں 

شہرِ سخن کو دیکھیے، ویران ہو گیا


احسن اقبال احمد

No comments:

Post a Comment