مِرا آنگن بھی مہکے گا ابھی برسات ہونے دو
شکستہ دل بھی چہکے گا ابھی برسات ہونے دو
گریباں چاک لوگوں کے بھی چہرے تمتمائیں گے
ابھی موسم بدلنے دو،۔ ابھی برسات ہونے دو
سمندر موج میں آ کر کنارے کاٹ ڈالے گا
ہوا کارخ بدلنے دو، ابھی برسات ہونے دو
وہ رستہ پھر بدل لیں گے ،جفائیں ہم بھی سہہ لیں گے
ذرا تیور بدلنے دو،۔ ابھی برسات ہونے دو
پرندے غول کی صورت بلندی تک چلے جائیں
زمیں پر لوٹ آئیں گے، ابھی برسات ہونے دو
شجر سوکھے ہوئے پتوں کے گرنے سے ہے افسردہ
شجر پھر سے ہرا ہو گا، ابھی برسات ہونے دو
وطن سے دور ہو کر بھی وطن ہی یاد آئے گا
ہمارے اشک برسیں گے ابھی برسات ہونے دو
تمہارے وصل کی خوشبو مِری یادوں میں مہکے گی
ابھی دل کو پگھلنے دو، ابھی برسات ہونے دو
بزرگوں کی دعاوُ ں سے، شہیدوں کی وفاوُ ں سے
لہو پھر رنگ لائے گا ابھی برسات ہونے دو
شہیدوں کا لہو کشمیر کو واپس دلائے گا
وفائیں رنگ لائیں گی ابھی برسات ہونے دو
ہمارے عشق کی وحدانیت کے ہوگئے قائل
سحر خوش فہم رہنے دو، ابھی برسات ہونے دو
تابندہ سحر
No comments:
Post a Comment