Sunday, 3 April 2022

اس دل کو کسی راہ پہ ڈالا بھی نہیں تھا

 اس دل کو کسی راہ پہ ڈالا بھی نہیں تھا

ہم نے تو ابھی خود کو سنبھالا بھی نہیں تھا

ہم ملتے کسے، ہاتھ بھی لگتے بھلا کس کے

ہم کو تو کوئی ڈھونڈنے والا بھی نہیں تھا

خاموشی تھی خاموشی میں غم گونج رہے تھے

اک لاش تھی اور گھر میں اجالا بھی نہیں تھا

در پر سگِ مضطر کی طرح لوگ کھڑے تھے

سینے سے ابھی دل کو نکالا بھی نہیں تھا

پھر کس کے نصیبوں سے تھیں ویرانیاں روشن

ہم نے تو کوئی درد اچھالا بھی نہیں تھا

ہم آئے تو کچھ باب کھلے عشق کے ورنہ

اس شہر میں تو غم کا حوالہ بھی نہیں تھا


فرحت عباس شاہ

No comments:

Post a Comment