Sunday, 3 April 2022

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے

میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے

تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھے

تمہیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے

جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو

کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتا نہ لگے

وہ پھول جو مِرے دامن سے ہو گئے منسوب

خدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ لگے

نہ جانے کیا ہے کسی کی اداس آنکھوں میں

وہ منہ چھپا کے بھی جائے تو بیوفا نہ لگے

تو اس طرح سے مِرے ساتھ بے وفائی کر

کہ تیرے بعد مجھے کوئی بے وفا نہ لگے

تم آنکھ موند کے پی جاؤ زندگی قیصر

کہ ایک گھونٹ میں ممکن ہے بد مزا نہ لگے


قیصر الجعفری

No comments:

Post a Comment