یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے
جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے
دیکھ یوں وقت کی دہلیز سے ٹکرا کے نہ گِر
راستے بند نہیں سوچنے والوں کے لیے
⛪آؤ، تعمیر کریں اپنی وفا کا معبد
ہم نہ مسجد کے لیے ہیں نہ شوالوں کے لیے
سالہا سال عقیدت سے کُھلا رہتا ہے
منفرد راہوں کا آغوش جیالوں کے لیے
رات کا کرب ہے گُلبانگِ سحر کا خالق
پیار کا گیت ہے یہ درد اجالوں کے لیے
شبِ فُرقت میں سُلگتی ہوئی یادوں کے سوا
اور کیا رکھا ہے ہم چاہنے والوں کے لیے
فارغ بخاری
No comments:
Post a Comment