Sunday, 3 April 2022

یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے

 یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے

جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے

دیکھ یوں وقت کی دہلیز سے ٹکرا کے نہ گِر

راستے بند نہیں سوچنے والوں کے لیے

⛪آؤ، تعمیر کریں اپنی وفا کا معبد

ہم نہ مسجد کے لیے ہیں نہ شوالوں کے لیے

سالہا سال عقیدت سے کُھلا رہتا ہے

منفرد راہوں کا آغوش جیالوں کے لیے

رات کا کرب ہے گُلبانگِ سحر کا خالق

پیار کا گیت ہے یہ درد اجالوں کے لیے

شبِ فُرقت میں سُلگتی ہوئی یادوں کے سوا

اور کیا رکھا ہے ہم چاہنے والوں کے لیے


فارغ بخاری

No comments:

Post a Comment