Monday, 13 September 2021

پڑھ کر درود آنکھ کی پتلی کو نم کرو

 پڑھ کر درود آنکھ کی پُتلی کو نم کرو

وحدت سے چشمِ مست کو یوں محترم کرو

کُھل کے کرو جی کس نے کہا ہے کہ کم کرو

اِس میں سکوں ملے تو مِری جاں ستم کرو 

کمبخت کون کہتا ہے تم اِس کو ضم کرو

نکلے جگر کو چِیر کے ہُو ایسے غم کرو

مستی کی انتہا تو ذرا دیکھو حشر میں 

کروٹ بدل بدل کے کہا شور کم کرو

ہنس ہنس کے کہہ رہے ہو مجھے کوئی غم نہیں

نا آشنائے غم ہو، مِرے یار! غم کرو

وقتِ نزع بھی آرزو عاشق کی یہ رہی 

پڑھ پڑھ کے اسمِ یار کو تم مجھ پہ دم کرو

اِک بار تم سے ملنے کو ترسے تمام عمر 

کچھ تو خیالِ عاشقاں میرے صنم کرو

دمِ وصال بھی ہے وہ حیا کہ بول اٹھے 

گستاخ ہے یہ، اِس کا ابھی سر قلم کرو

یزداں کی رحمتیں بجا، پر آسرا ہو تم 

دوں واسطہ حسینؑ کا آقاﷺ کرم کرو

محروم کر گیا ہے جو اشکوں سے بھی تمہیں

پتھر جو اک ہے سینے میں اس کا بھی غم کرو

محرم میں بھی نہ رہ سکے ہو تم غزل سے باز

احسن میاں خدا کے لیے کچھ شرم کرو


احسن اقبال احمد

No comments:

Post a Comment