Monday, 13 September 2021

سب رقیبوں کو بتا کر چیختے ہیں

 سب رقیبوں کو بتا کر چیختے ہیں

اس لیے ہم سر اٹھا کر چیختے ہیں

چیخ میں چیخیں ملا کر چیختے ہیں

جب کبھی ہم مسکرا کر چیختے ہیں

وہ یقیناً ایک ہجرت کر چکے ہیں

جو پرندے چہچہا کر چیختے ہیں

زندگی بھی ناچتی ہے اور ہم بھی

ایک دوجے کو نچا کر چیختے ہیں

اہـلـیــانِ دل ہمیں گـر سن رہے ہیں

آئیں دل سے دل لگا کر چیـختے ہیں

ایک سگرٹ دیکھ کیسے چیختا ہے

جب کبھی ہم کش لگا کر چیختے ہیں

مر چکے ہم، آزمائے جا چکے ہیں

وہ ہمیں اب آزما کر چیختے ہیں

آئینہ بھی چیختا ہے اور ہم بھی

آئینے کو غم دکھا کر چیختے ہیں

دیکھتے ہیں کون زیادہ چیختا ہے

آئیے شرطیں لگا کر چیختے ہیں

خواب میں بھی بڑبڑاتے ہیں ابھی ہم

جاگتے ہی جھنجھلا کر چیختے ہیں

ہم زمانے کے لیے لکھتے تھے لیکن

اب دیواروں کو سُنا کر چیختے ہیں

رات بھر ہم چیخ کر ہنستے ہیں حیدر

اور دن بھر کھلکھلا کر چیختے ہیں


حیدر علی

No comments:

Post a Comment