قرضہ دُکھوں کا جان پر اپنی چڑھا لیا
سہ روزہ جشنِ عید خوشی سے منا لیا
لکھا تھا یہ بھی سانحہ اپنے نصیب میں
نو رستہ چاند، رات کی ظلمت نے آ لیا
بنتا تھا جو خراج وہ غم نے کیا وصول
میری خوشی تھی جو اسے میں نے کما لیا
آشوبِ دہر نے کسے چھوڑا یہاں مگر
ہم نے تِرے خیال کا چہرہ بچا لیا
بے دخل کر دیا مجھے میرے وجود سے
اس نے رسوخ اس قدر اپنا بڑھا لیا
ملتا رہا خوشی خوشی سب سے تمام دن
راتوں کو درد آنکھ کے رستے بہا لیا
بچھڑے ہوؤں کی قبر پر مانگی دعا نعیم
زندہ ہیں جو ابھی انہیں دل سے لگا لیا
نعیم جاوید
No comments:
Post a Comment