Monday, 13 September 2021

اگر کھولو کبھی باب صبا تم

 اگر کھولو کبھی بابِ صبا تم

ادھر اک سرد جھونکا بھیجنا تم

جمالِ شب، نگارِ صبحگاہی

ستارہ تم ہو آنگن کا دِیا تم

مِرے پہلو بہ پہلو، رو بہ رو ہو

مِری تصویر، میرا آئینہ تم

مِری کشتی، مِرا دریا، مِرا دل

کنارہ تم ہو، میرے ناخدا تم

زمانے سے تو دل برداشتہ ہو

مجھے بھی چھوڑنے والے ہو کیا تم

تمہاری تھی تمہاری ہے یہ جاناں

تو پھر کس بات پر ہو غمزدہ تم


جاناں ملک

No comments:

Post a Comment