Monday, 13 September 2021

ایک تاریخ ہے اجڑے ہوئے کاشانوں کی

یہی بے لوث محبت یہی غم خوارئ خلق 

اور معراج کسے کہتے ہیں انسانوں کی 

نام ہے کیا اسی ہنگامے کا آغاز شباب 

ایک آندھی سی چلی آتی ہے ارمانوں کی 

جس قدر عشق سے ہوتی ہے فزوں وسعت فکر 

عقل رکھتی ہے بنائیں نئے زندانوں کی 

اپنی موت اپنی تباہی کی طرف کیا دیکھیں 

کہ نگاہیں طرف شمع ہیں پروانوں کی 

ہو گئی عمر بہاروں کے تصور میں تمام 

سیر کرتے رہے نادِید گُلستانوں کی 

ماسوا اس کے نہیں اور کچھ افسانۂ ہند 

ایک تاریخ ہے اُجڑے ہوئے کاشانوں کی


نہال سیوہاروی

No comments:

Post a Comment