یہی بے لوث محبت یہی غم خوارئ خلق
اور معراج کسے کہتے ہیں انسانوں کی
نام ہے کیا اسی ہنگامے کا آغاز شباب
ایک آندھی سی چلی آتی ہے ارمانوں کی
جس قدر عشق سے ہوتی ہے فزوں وسعت فکر
عقل رکھتی ہے بنائیں نئے زندانوں کی
اپنی موت اپنی تباہی کی طرف کیا دیکھیں
کہ نگاہیں طرف شمع ہیں پروانوں کی
ہو گئی عمر بہاروں کے تصور میں تمام
سیر کرتے رہے نادِید گُلستانوں کی
ماسوا اس کے نہیں اور کچھ افسانۂ ہند
ایک تاریخ ہے اُجڑے ہوئے کاشانوں کی
نہال سیوہاروی
No comments:
Post a Comment